اسرائیل کے جنوبی شہر بئرالسبع میں ایک بس سٹیشن پر بندوق اور چاقو کے حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔رواں ماہ تشدد کے سلسلہ وار واقعات میں آٹھ اسرائیلی اور حملہ آوروں سمیت 40 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
تشدد کی حالیہ لہر مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مقدس مقام سے شروع ہوئی۔
اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے غرب اردن اور یروشلم میں سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے اور یہاں فلسطینی مظاہرین کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی جھڑپیں جاری ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی مشرق وسطیٰ کے دورے پر پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔
جان کیری کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے اور صورتحال کو معمول پر لانے کی امریکی کوششوں کے تحت وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو اور فلطسین کے صدر محمود عباس سے الگ الگ ملاقات کریں گے۔
اسرائیل اخبار ہاریٹز نے پولیس سربراہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک مسلح شخص سنٹرل بس سٹیشن پر داخل ہوا اور اس نے فائرنگ کر کے ایک فوجی کو ہلاک کر دیا۔
اس نے فائرنگ جاری رکھی اور اس دوران سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کی تو حملہ آور بس سٹیشن سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا لیکن جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔ حملہ آور سے ایک چاقو اور گولیوں سمیت ایک پستول برآمد ہوا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں دو حملہ آور ملوث تھے جن میں سے ایک مارا گیا اور ایک شدید زخمی ہے تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق دوسرا شخص اریٹریا کا شہری ہے۔ مقامی ہسپتال کے مطابق چار پولیس اہلکاروں سمیت دس افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں دو کی حالت تشویشناک ہے۔
سماجی رابطوں پر جاری کی جانے والی ویڈیو میں زمین پر خون کے دھبے اور کھڑکیوں میں گولیوں کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ حملہ اسرائیل کے اندر ہوا ہے نہ کہ اس کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں ہوا۔ اس سے پہلے اتوار کو اسرائیلی فوج نے مقبوضہ غرب اردن کے ایک مذہبی مقام میں داخل ہونے والی یہودیوں کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ وہ غیر قانونی طریقے سے عبادت کرنے مذہبی مقام میں داخل ہوئے۔
اس سے پہلے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کوفلسطینی مظاہرین نے غربِ اردن کے علاقے نابلوس میں پیغمبرِ یوسف کے مزار کو آگ لگا دی تھی۔