فلسطینی سفیر کی جانب سے رام اللہ اتھارٹی پر یہ سنگین الزام نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا فلسطینی اتھارٹی واقعی یہودیوں کی اسرائیل منتقلی کے عمل میں ملوث ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ذرائع ابلاغ میں یہ خبرشائع ہوئی تھی کہ اسرائیل نے امریکا کی معاونت سے یمن سے 17 یہودیوں کا ایک گروپ اردن کے راستے اسرائیل منتقل کردیا ہے۔ یمن سے آنے والے یہودی وہاں سے بڑی مقدار میں تاریخی نوادرات اور مخطوطات بھی ساتھ لے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سابق سفیر خیر الدین عبدالرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’’فیس بک‘‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے یہودیوں کی اسرائیل منتقلی فلسطینی اتھارٹی کی ملی بھگت سے عمل میں لائی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ امرنہایت خطرناک ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے انتہائی حساس قومی اصول کو پامال کرتے ہوئے یہودیوں کی یمن سے اسرائیل منتقلی میں صہیونی دشمن کی مدد کی ہے۔
فلسطینی سفیر کے اس الزام کے بعد رام اللہ اتھارٹی کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ خیر الدین عبدالرحمان کے الزام کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کی خاموشی معنی خیز ہے۔ رام اللہ حکام کی خاموشی سے ان خدشات کو تقویت پہنچتی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی واقعی یہودیوں کی یمن سے اسرائیل منتقلی کی میں اسرائیل کی معاون رہی ہے۔
