اسرائیل کے عبرانی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حال ہی میں یورپی اخبارات میں نیتن یاھو اور اس کے دوست ارنو میمران کی تصویر سامنے آئی ہے۔ یہ تصویر ستمبر سنہ 2003 ء کی ہے جو مونٹ کارلو کے ساحل پرکھینچی گئی تھی۔ اس وقت نیتن یاھو ارئیل شیرون کی حکومت کے وزیر مالیات تھے۔
میمران پرالزام ہے کہ اس نے مائیر حبیب نامی ایک دوسرے ساتھی کے ساتھ مل کریورپی یونین کے 282 ملین یورو لوٹے تھے۔
رپورٹ کے مطابق میمران نے سنہ 2000 ء میں پیرس میں ایک انتہائی مہنگا فلیٹ بھی نیتن یاھو کو کرائے پردلوایا تھا جس میں یاھو کئی روز تک اپنے اہل خانہ کے ساتھ ٹھہرے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیتن یاھو کے میمران کے ساتھ کس قدر گہرے مراسم تھے۔ یہ وہی دور تھا جب میمران پرالزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے یورپی یونین کے کئی ملین یورو چوری کیے ہیں۔
فرانسیسی حکومت نے گذشتہ کچھ عرصے سے لاکھوں یورو کی لوٹ مار کے کیس کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ چند ماہ قبل فرانسیسی پراسیکیوٹر جنرل کی ہدایت پرایک تیونسی یہودی مرڈ خائے مولی کو حراست میں لیا تھاجس کا ارنو میمران کے ساتھ گہرا تعلق بتایا جاتا ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ مولی بھی رقم چوری کے اسکینڈل میں ملوث تھا کیونکہ اس کے میمران کے ساتھ براہ راست روابط تھے۔ اسی عرصے میں اس وقت کے اسرائیلی وزیرمالیات اور موجودہ وزیراعظم نیتن یاھو کے بھی میمران اور اس کے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ تصاویر سامنےآئی تھیں۔بعد ازاں یہ شبہ کیا جانے لگا تھا کہ 282 ملین یورو کی لوٹ مار میں نیتن یاھو کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے۔
