رپورٹ کے مطابق کویت نے آج سے 25 برس قبل فلسطینی شہریوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے اس وقت بند کردیے تھے جب فلسطینی اتھارٹی نے عراقی فوج کے کویت پرحملے کے دوران بغداد کی حمایت کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق کویتی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں حصہ لینے کے لیے عائد پابندی اٹھا دی ہے۔ جس کے بعد نہ صرف کویت میں موجود فلسطینی مہاجرین بلکہ فلسطینی اتھارٹی کا پاسپورٹ رکھنے والا کوئی بھی فلسطینی شہری ایک مستقل شہری کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے درخواست دے سکے گا۔
حکومتی فیصلے کے بعد کویت میں طب اور ڈسپنری کے شعبے میں بھی فلسطینیوں کے لیے کام کےدروازے کھول دیے گئے ہیں۔ عرب شہریت رکھنے والا کوئی بھی شہری ان شعبوں میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہوسکے گا۔ اس کے علاوہ وزارت محنت، بجلی، پانی، تعلیم، انتظامی شعبے اور دیگر محکموں کے لیے بھی فلسطینی درخواست دے سکیں گے۔
تاہم کویتی سیکرٹری داخلہ جنرل سلیمان الفہد کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے فلسطینیوں کو وہاں آنے کی اجازت اور ملازمت کے حصول میں حصہ لینے کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ کویت میں فلسطینی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کویتی حکام کے ساتھ ہونےوالی بات چیت میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی سے اساتذہ کی کویت میں تعلیمی خدمات کے حوالے سے لائحہ عمل پرغور کیا گیا ہے۔
