رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو کو اس بات کے سخت خدشات لاحق ہیں کہ یورپی یونین مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں میں تیارکی جانے والی مصنوعات کے بائیکاٹ کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کے غیرقانونی کاخانے قائم رہتے ہیں تو اس کے رد عمل میں اسرائیل کو بھی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اسرائیل کی حکمراں جماعت’’لیکوڈ‘‘ کے پارلیمانی بلاک نے بھی یورپی یونین کی جانب سے اسرائیلی کارخانوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کے بائیکاٹ پرغور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے ہم جن پابندیوں کا سامنا کررہے ہیں وہ معمولی نہیں ہیں۔ یہ پابندیاں اسرائیل کے لیے معاشی خسارے کےساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی مشکلات پیدا کررہی ہیں۔ ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ آیا یورپی یونین مزید کس نوعیت کی پابندیوں پرغور کررہی ہے اور آئندہ ایام میں اسرائیل کو مزید کس نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘‘۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتے یورپی یونین کی وزارت خارجہ کا فلسطین۔ اسرائیل سے متعلق ماہانہ اجلاس ہورہا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اس اجلاس میں یورپی یونین کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں تیار کردہ مصنوعات پر ٹیگ لگانے میں توسیع کا فیصلہ کیا جائے گا یانہیں۔
خیال رہے کہ فرانس سمیت یورپی یونین کے کئی ممالک نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ وہ سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرنے پرغور کررہے ہیں جس میں اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کردہ کاخانوں میں بننے والی اشیاء پر ٹیگ لگانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2014 ء کے دوران یورپی یونین نے کہا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی کارخانوں کے قیام اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف اسرائیل پراقتصادی پابندیوں کی ایک فہرست تیار کرنے پر غور کررہے ہیں۔ پچھلے سال بھی یورپی یونین نے جب بعض مصنوعات کو متنازع قراردے کران پر مخصوص ٹیگ لگانا شروع کیا تواس وقت بھی اسرائیل پر بعض اقتصادی پابندیاں عائد کرنے پرغور کیا گیا تھا۔
