اسلامی جہاد کے شعبہ اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت کے اسیران نے دس روز قبل اسرائیلی جیل انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تنہائی میں ڈالے گئے ان کے تین ساتھیوں نھار السعدی، منیر ابو ربیع اور حسنی عیسیٰ کی قید تنہائی ختم کرتے ہوئے انہیں دوسرے قیدیوں میں شامل کریں ورنہ جیلوں میں موجود اسلامی جہاد کے اسیران ہڑتال سمیت دیگر پرتشدد راستے اختیار کرنے پرمجبور ہوں گے۔ اس پرصہیونی جیلروں نے تینوں فلسطینی قیدیوں کی تنہائی کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوفر جیل کے علاوہ ایچل جیل میں قید تنہائی میں ڈالے گئے اسیران احمد ابو جزر اور سعید صالح کی تنہائی کی سزا بھی اگلے چند روز میں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد اسیران نے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت 7000 سے زائد فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں بڑی تعداد میں اسیران مختلف مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ اور اسلامی جہاد سر فہرست ہیں۔ اسرائیلی جیل انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے طے شدہ حکمت عملی کے تحت اسیران کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں قید تنہائی میں ڈال دیتے ہیں۔
