فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ دار ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تینوں ملکوں [مصر، فلسطین، اسرائیل] کی سربراہ کانفرنس کے لیے رابطے شروع کردیے گئے ہیں اور تینوں ملکوں نے سربراہ کانفرنس کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی فلسطینی اتھارٹی کی قیادت پر گہرا اثر رکھتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کے اسرائیل کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں۔ اس لیے صدر السیسی کی جانب سے فلسطین ، اسرائیل تنازع کےحل کے لیے کوئی بھی اقدام کامیاب ہوسکتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی فلسطین۔ اسرائیل اور مصرپر مشتمل سربراہ کانفرنس کی تجویز کو معقول اور نتائج کے اعتبار سے موثرقرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر یہ کانفرنس منعقد ہوتی ہے تو فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات بحال ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے ایسی کسی سربراہ کانفرنس کی تردید کی گئی ہے تاہم وزیراعظم نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ وہ امن بات چیت کی بحالی کے لیے صدر عباس سے ملاقات پر تیار ہیں۔
خیال رہے کہ مصر کے صدر فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے ایک ہفتہ پیشتر فلسطین اور اسرائیل دونوں پر مذاکرات کا عمل بحال کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین ے پاس تنازعات کے حل اور مسئلہ فلسطین کے حل کا دیرینہ موقع ہے اور انہیں اس موقع پر ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔
اس پر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں کی جانب سے مثبت رد عمل سامنے آیا تھا۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو مصر سمیت کسی بھی عرب ملک کے ساتھ مل کر امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
