فلسطینی سیران کے ترجمان ریڈیو چینل’’ صوت الاسریٰ‘‘ کی جانب سےنشر کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریتلے طوفان نے جزیرہ نما النقب میں قائم اسرائیل کی ایک فوجی جیل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جیل کے احاطے میں فلسطینی قیدیوں کو رکھنے کے لیے بنائے گئے خیمے بھی اکھڑ گئے جس کے نتیجے میں قیدیوں کے استعمال کا سامان بھی طوفان کی نذرہوگیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے قیدیوں کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں قیدی کئی گھنٹے تک ریتلے طوفان میں گھرے رہے۔ خیمے اکھڑ جانے کے باعث ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جزیرہ نما النقب کی جیل سنہ 1988 ء میں قائم کی گئی تھی۔ فلسطینی اسیران نے اس جیل کو ’’انصار 3 ‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔یہ جیل مصر کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ سنہ 1996 ء میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسرائیل کے ایک معاہدے کے تحت یہ جیل بند کردی گئی تھی تاہم اپریل 2002 ء کو سنہ 2000 ء کو شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے دوران گرفتار کیےگئے فلسطینیوں کو ڈالنے کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی اس جیل میں سیکڑوں فلسطین پابند سلاسل ہیں۔
