رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی کابینہ میں شامل متعدد وزراء نے اجلاس کے دوران تجویز پیش کی سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ سماجی کارکنوں پر کڑی پابندیاں عائد کی جائیں اور انہیں سنگین سزائیں دی جائیں۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ سماجی کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا کو اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈے کے ٹول کے طورپر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کےنتیجے میں تحریک انتفاضہ کو ایک نئی مہمیز ملتی اور فلسطینی عوام کے غم وغصے میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کوطاقت سے روکنے کی پالیسی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ فلسطینی سماجی کارکن سوشل میڈٰیا کے ذریعے نہ صرف باہمی رابطے کو فعال بناتے ہیں بلکہ شہروں کے گلی کوچوں میں ہونے والی مزاحمتی سرگرمیوں، احتجاجی مظاہروں اور صہیونی فورسز کے ہاتھوں پرتشدد ہتھیکنڈوں کے استعمال کے واقعات کی تصاویر اور ویڈیوز کو بڑے پیمانے پر مشتہر کرتے ہیں۔
اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ’’فیس بک‘‘ فلسطینیوں کے ہاتھ میں ایک ایسا آلہ جسے اسرائیلی ریاست اور فوج کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کو مظلوم بنا کر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے سوشل میڈیا کے استعمال کے سخت ترین قواعد وضوابط متعین کیے جائیں۔ پارلیمنٹ اسرائیل کے خلاف اشتعال پھیلانے والے فلسطینیوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی اجازت دے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہودی آباد کاروں کے نمائندہ گروپوں نے فیس بک کی انتظامیہ کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں 20 ہزار یہودی آباد کاروں نے ایک مشترکہ مطالبے پر دستخط کیے ہیں جس میں فیس بک کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور دیگر سماجی کارکنوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف پوسٹ کردہ مواد کو ختم کرے ورنہ وہ فیس بک کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کردیں گے۔ ان یہودیوں کا کہنا ہے کہ فیس بک اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کے اشتعال انگیز مواد سے بھری پڑی ہے۔
