(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں حال ہی میں مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں ایک نہتے فلسطینی نوجوان کے بہیمانہ قتل میں ملوث یہودی فوجی کو حراست میں لیا گیا ہے اس کی رہائی کے لیے یہودی آباد کاروں نے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کے قتل کے جرم میں گرفتار اسرائیلی فوجی دہشت گرد کی رہائی کے لیے ایک نئی مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت ایک پٹیشن تیار کی گئی ہے جس میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ فلسطینی شہری کے قتل میں ملوث فوجی کو فوری طور پر رہا کریں۔پٹیشن میں فلسطینیوں کے قاتل کو ’ہیرو‘ قرار دے کر اس کی رہائی کا بڑے زور وشور سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اب تک اس پٹیشن پر سات ہزار افراد نے دستخط کیے ہیں۔ دستخط کرنے والوں میں عام یہودیوں کے علاوہ فوجی افسر اور اہلکار بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہودی آباد کاروں کی جانب سے اسرائیلی فوجی کی رہائی کے مطالبے پرمبنی پٹیشن آج اتوار کو وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو، وزیر دفاع موشے یعلون، آرمی چیف جنرل گاڈی آئزنکوٹ اور دیگر سینیر عہدیداروں کے سامنے پیش کی جائے گی۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں تل ارمیدہ کے مقام پر اسرائیلی فوجیوں نے دو فلسطینی نوجوانوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ فلسطینی نوجوانوں نے ایک اسرائیلی فوجی کو چاقو گھونپ کرزخمی کیا ہے تاہم صہیونی فوج کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ دو فلسطینی نوجوانوں کے وحشیانہ قتل پرانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی صہیونی فوج کو کڑی تنقید کانشانہ بنایا ہے۔ عالمی تنقید کے بعد اسرائیلی فوج نے تل ارمیدہ میں ایک فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کرنے کے جرم میں ایک اہلکار کو حراست میں لیا ہے۔
