رپورٹ میں بتایا کہ فوجی افسر کو کچھ عرصہ قبل اس وقت حراست میں لیا گیا تھاجب اس پر شبہ ہوا کہ وہ رشوت کے بدلے مغربی کنارے اور دوسرے فلسطینی شہروں میں رہنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی علاقوں میں داخل ہونے کے اجازت نامے مہیا کررہا ہے۔ ملٹری پولیس نے فوجی افسر سے تفتیش کی تو اس پر عائد الزام درست ثابت ہوا۔
ملٹری پراسیکیوٹر نے صہیونی فوجی افسرپر کےخلاف تیار کردہ فرد جرم میں الزام عائد کیا کہ ملزم جعلی سازی، رشوت خوری، اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال اور ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا مرتکب ہوا ہے۔
عبرانی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سزا پانے والے اسرائیلی فوجی افسر کے خلاف تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ اس نے فلسطینی مزدوروں کو 200 غیرقانونی اجازت نامے جاری کے جن کے عوض اس نے 230 ملین شیکل یعنی 62 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی رقم رشوت کے طور پر وصول کی تھی۔
