فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ جنگ میں نفسیاتی طور پر متاثر ہونے والے فوجی دو سال گذرنے کے بعد بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے ہیں۔ دسیوں فوجیوں میں ایک نام ’ارئیل بن مایر‘ نامی ایک فوجی کا بھی ہے جس نے فوجی سروس چھوڑںے کے بعد گھر بار بھی تک کردیا ہے۔ وہ اکثر اپنی کار میں آوارہ گردی کرتا رہتا ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران ایک رپورٹ نشر کی جس پراسرائیل کے سیکیورٹی حلقوں میں بڑی لے دے بھی ہو رہی ہے مگر رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار نہایت خوفناک ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کا خوف اسرائیلی فوجیوں کو نفسیاتی مریض بنا رہا ہے۔ فوج میں خدمات انجام دینے والا ہر چوتھا اہلکار نفسیاتی مریض ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری اعدود شمار کے مطابق ایک چوتھائی فوج نفسیاتی یا ذہنی امراض کا شکار ہے۔ فوجی اہلکاروں کی بحالی میں سرگرم اداروں کی جانب سے بھی نفسیاتی مریضوں کےعلاج معالجے میں زیادہ تندہی سے کام نہیں کیا جاتا بلکہ نفسیاتی امراض کا علاج کرنے والے ادارے بھی کمزوری کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نفسیاتی عوارض کا شکار یہودی فوجیوں میں سے 64 فی صد مرد جب کہ فی صد مرد جب کہ 34 فی صد خواتین اہلکار ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفسیاتی عارضہ اس قدر شت اختیار کر گیا ہے کہ بڑی تعداد میں فوجیوں کو ملٹری سروسز سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران نفسیاتی عوارض کا شکار 21 فی صد فوجیوں کو فارغ کیا گیا۔
