(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں پچھلے چار ماہ سے جاری تحریک انتفاضہ کے دوران فلسطینیوں کی بے پناہ قربانیوں کے دیگر ثمرات میں ایک اہم نتیجہ مزاحمتی قوتوں کا اسرائیل پر سخت خوف بھی ہے جس کا اعتراف اسرائیل کےذرائع ابلاغ میں بھی کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں اسرائیل کے ایک بڑے عبرانی اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی جنگی صلاحیت میں بےپناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ فلسطینیوں کی اس بڑھتی طاقت کی وجہ سے اسرائیل سخت خوف کا شکار ہے۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی کے خفیہ اداروں اور ملٹری انٹیلی جنس نے غزہ کی پٹی کے تمام مزاحمتی گروپوں بالخصوص اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی فوجی اور جنگی صلاحیت کا جائزہ لیا ہے۔ انٹیلی جنس اداروں کو پتا چلا ہے کہ القسام بریگیڈ اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروپوں کی جنگی صلاحیت سنہ 2014 ء کی نسبت بہت بہتر ہوئی ہے۔
اسرائیل کے فوجی اور دفاعی تجزیہ نگار عاموس ہرئیل نے صہیونی خفیہ اداروں کی رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل میں مزاحمتی قوتوں کے زور پکڑنے کا خوف صرف غزہ کے مزاحمت کاروں تک محدود نہیں بلکہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینی مزاحمتی گروپ تقویت پکڑ رہے ہیں۔ اس کا اظہار حالیہ عرصے میں غرب اردن سے حماس کے تین الگ الگ گروپوں کا پکڑا جانا بھی ہے جو اسرائیلی تنصیبات اور فوج پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
اسرائیلی دفاع تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ فوج کو فلسطینیوں کی مزاحمتی کارروائیوں کا بہ خوبی اندازہ ہے اور فوج جانتی ہے کہ فلسطینی مزاحمت کار کس طرح اپنی جنگی استعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار چودہ کی جنگ میں حماس کے جس دفاعی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا گیا تھا اسے دوبارہ سے مکمل کرلیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی مزاحمت کار اس وقت ماضی کی نسبت زیادہ طاقت ور ہوچکے ہیں۔
