رپورٹ میں اسرائیلی فوج کے ایک ذریعے کے حوالے سےبتایا ہے کہ حال ہی میں خفیہ اداروں کی نشاندہی پر الخلیل سے حماس سے وابستہ چار افراد کو حراست میں لیا گیا جن کے قبضے سے M16 بندوق اور پستول سمیت دیگر آتشیں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے فلسطینیوں سے کسی خفیہ مقام پر تفتیش جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج اوریہودی آباد کاروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ یہ اسلحہ اسی لیے لے رکھا تھا۔
رپورٹ میں حراست میں لیے گئے شہریوں میں سے ایک کی شناخت 38 سالہ محمد علی القواسمی جو تین بار عمرقید کی سزا کا سامنا کرنے والے حسام القواسمی کے بھائی ہیں کے نام سے کی گئی ہے۔ حسام پر جون 2014 ء میں الخلیل سے تین یہودیوں کے اغواء کےبعد قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اسی الزام کے تحت اسے تین بار عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تمام ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔ جلد ہی ان کے خلاف فرد جرم بھی عدالت میں پیش کردی جائے گی۔چاروں فلسطینیوں پر اسرائیل کے خلاف سازش، یہودی فوجیوں اور آباد کاروں کے قتل کی منصوبہ بندی اور اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ساتھ تعلق کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
