(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کےعبرانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ حراستی مراکز ڈالے گئے فلسطینیوں پر تشدد کا ایک نیا حربہ سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ درجنوں قیدیوں کو قضائے حاجت اور پانی پینے سے منع کیا جاتا رہا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی اسیران کو ایک جیل سے دوسری میں منتقلی کے عمل کے دوران انہیں پانی پینے اور 12 ،12 گھنٹے قضائے حاجت سے روکا جاتا رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں 34 فلسطینی قیدیوں کو وسطی اسرائیل کے ایک حراستی مرکز سے دوسری جیل میں لے جایا جا رہا تھا۔ انہیں قیدیوں کو لے جانے والی بسوں میں ڈالا گیا۔ کئی گھنٹے کے سفرکے دوران انہیں پانی پینے سے منع کیا جاتا رہا اور مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے سے شام پانچ بجے تک انہیں قضائے حاجت سے روکا گیا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں قید دسیوں فلسطینیوں نے حقوق انسانی کے مندوبین سے ملاقاتوں میں یہ شکایت کی ہے کہ جیل انتظامیہ انہیں بارہ بارہ گھنٹے تک کھانے پینے اور پیشاب کرنے سے محروم رکھتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے قیدیوں کے ساتھ برتے جانے والے تازہ اور غیرانسانی سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے اور اسیران کو قضائے حاجت سے روکنے اور پانی سے محروم رکھنے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائےتاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہو سکیں۔
