(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی حکمراں جماعت ’’لیکوڈ‘‘ اور ’’اسرائیل بیتنا‘‘ میں مخلوط حکومت کے حوالے سے طے پائے سمجھوتے کے تحت شدت پسند سیاست دان آوی گیڈور لائبرمین نے موشے یعلون کے استعفے کے بعد ان کی جگہ وزارت دفاع کا قلم دان سنھبال لیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل بیتنا نامی انتہا پسند سیاسی مذہبی جماعت کے سربراہ لایبرمین فلسطینیوں کے حوالے سے سخت گیر موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم نہ کرنے والوں کو فلسطین سے نکال دیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل بیتنا اور لیکوڈ پارٹی کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت لائبرمین نے وزارت دفاع کے عہدے کا چارج سنھبال لیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لائبرمین اور ان کی جماعت کی ایک خاتون رہنما سوفا لاندفیر آئندہ سوموار کو اپنے اپنے عہدوں کاحلف اٹھائیں گے۔ لاندفیر کو مہاجرین سے متعلق وزارت کا قلم دان سونپا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں حال ہی میں حکمراں جماعت لیکوڈ اورشدت پسند اسرائیل بیتنا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ’اسرائیل بیتنا‘ کو حکومت میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اسرائیل بیتنا نے وزارت دفاع جیسے اہم عہدے کی شرط پر حکومت میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنی پارٹی کے وزیردفاع موشے یعلون کو ان کے عہدے سے ہٹا کر آوی گیڈور لائبرمین کو ان کی جگہ وزارت دفاع کاقلم دان سونپا ہے۔
