رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں صحافیوں کے ایک وفد سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے فوجیوں کی رہائی کے حوالے سے حالیہ ایام میں ان کیمرہ متعدد اجلاس ہوئے ہیں اور ان میں پیش کی گئی تجاویز پرغور کے بعد یرغمالی فوجیوں کی بازیابی کے لیے اہم پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ نیتن یاھو نے کہا کہ یرغمالی فوجیوں کی بازیابی کے لیے میں ذاتی طورپر دلچسپی لے رہا ہوں تاہم فی الحال اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے قوم کو آگاہ نہیں کیاجاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2014 ء کے موسم گرما میں دو ماہ تک اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں نے گوریلا کارروائیوں میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اغواء کیے گئے فوجیوں میں کچھ زندہ ہیں جب کہ ذرائع کے مطابق ایک فوجی کی میت بھی فلسطینیوں کے قبضے میں ہے۔ یرغمال بنائے گئے فوجیوں میں شاؤل ارون، فوجی افسر ھدار گولڈن اور ایتھوپیائی نژاد فوجی ابراہیم منگسٹو کے نام بتائے جاتے ہیں۔
