رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی صدر نے تین ہفتے قبل اپنے دورہ ماسکو کے دوران روسی صدر سے ملاقات کے دوران یہ درخواست پیش کی تھی جس میں ان اپیل کی گئی تھی وہ شام میں موجود اسرائیلی جاسوس آنجہانی ایلی کوھین کی باقیات اسرائیل کے حوالے کرانے میں کردار ادا کریں تاکہ جاسوس کی میت کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی قبرستان میں دفن کیا جاسکے۔
خیال رہے کہ ایلی کوھین نامی اسرائیلی جاسوس شام میں موساد کے پرانے جاسوسوں میں شمار ہوتا ہے جس نے سنہ 1960 کے عشرے میں شام میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کا آغاز کیا تھا مگر پانچ سال بعد وہ گرفتار ہوا اور اسے شامی حکومت نے پھانسی دے تھی۔ اس کے بعد اس کی میت کو ایک تابوت میں بند کرکے محفوظ کرلیا گیا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے متعدد مرتبہ اپنے جاسوس کی باقیات کے حصول کے لیے کوششیں کیں مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ حال ہی میں روس نے شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں فوجی مداخلت کی تو اسرائیل نے بھی موقع غنیمت سمجھتے ہوئے ماسکو سے اپنے جاسوس کی میت کے حصول میں مدد کی درخواست کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ریفلین کے دورہ ماسکو کے اہم اہداف میں شام میں اپنے جاسوس کی میت کے حصول کے لیے صدر ولادی میر پوتن سے بات چیت کرنا شامل تھا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا روسی صدر نے اسرائیلی ہم منصب کی درخواست پر کس طرح کا رد عمل ظاہر کیا ہے۔
