بھارت میں منشیہ بنی اسرائیل قبیلے کے باشندوں کی تعداد 7000 سے زیادہ ہے۔ ان کی اکثریت نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں منتقل ہونے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔خیال رہے کہ فلسطینیوں کی تحریک آزادی میں شدت آنے اور فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے تقویت پکڑنے کے بعد دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین میں لا کرآباد کرنے کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے جو اسرائیلیوں کے لیے ایک بڑی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔
نومبر کے وسط میں غزہ کی پٹی پراسرائیلی حملے کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے داغے گئے راکٹ مقبوضہ بیت المقدس اور تل الربیع (تل ابیب) میں اہداف پر گرنے کے بعد بیرون ملک سے یہودیوں کی آمد مزید کم ہوئی ہے۔ اس کے برعکس فلسطین میں آباد کیے گئے یہودی بھی خود کو غیرمحفوظ سمجھنے لگے ہیں اور انہوں نے اسرائیل چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں اقامت اختیار کرنا شروع کردی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
