(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے آرمی چیف نے اپنی بزدل سپاہ کی مٹھی بھر اور نہتے فلسطینیوں کے سامنے بے بسی کا کھل کراعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ طاقت کے استعمال کےباوجود فوج فلسطینیوں کو فدائی کارروائیوں سے روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل آئنزکوٹ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز فلسطینیوں کے چاقو حملوں کے سامنے بے بس ہوگئی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے باوجود فلسطینیوں کو مزاحمتی کارروائیوں اور فدائی حملوں سے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک سال قبل مسلح افواج کے سربراہ کا عہدہ سنھبالنے والے جنرل آئزنکوٹ نے پہلی بار فلسطینی شہریوں کی مزاحمتی کارروائیوں کے سامنے اپنی بے بسی اور ناکامی کا برملا اعتراف کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ آرمی چیف کا فلسطینی مزاحمتی کاروں سے متعلق بیان اور فوج کی ناکامی کا اعتراف نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت روکنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین میں پچھلے سال اکتوبر کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ کے دوران اب تک 29 صہیونی ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ صہیونی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 160 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
اسرائیل کے آرمی چیف نے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے بھی فلسطینیوں کی مزاحمتی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے کوئی موثر حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکےہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے چاقوؤں کے حملوں کو روکنے میں خفیہ ادارے اور سیکیورٹی فورسزکی ناکامی باعث تشویش ہے۔
جنرل آئزنکوٹ نے اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کی عسکری صلاحیت میں بے پناہ اضافے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں سرنگوں کی کھدائی کے ساتھ ساتھ اپنے میزائل سسٹم کو بھی پہلے سے بہت بہتر اور طاقت بنا دیا ہے۔
