مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق برطانیہ میں قائم”آرگنائزیشن آف عرب ہیومن رائیٹس” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ صہیونی ریاست کو جنگی آلات اور سامان حرب و ضرب کی فروخت کا سلسلہ مکمل طور پر بند کر دے کیونکہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ جنگ بندی کے بجائے مسلسل جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے۔
تنظیم نے بدھ کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی اس وحشیانہ بمباری کی شدید مذمت کی جس کے نتیجے میں دو خواتین اورایک شیرخوار بچی شہید جبکہ دسیوں افراد زخمی ہو گئے تھے۔ انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے چھ روز تک جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے بعد ایک مرتبہ پھر قتل عام کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی دوسرے ملک کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ امن کے بجائے جارحیت کے مرتکب اسرائیل کی کسی بھی شکل میں مدد کرے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی حکومت نے 13 اگست سے اسرائیل کو جنگ کے لیے استعمال ہونے والے 12 آلات کی فروخت پرپابندی کا خوش آئند فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم اس فیصلے کو سراہتی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ لندن حکومت اسرائیل کے ساتھ طے پائے تمام دفاعی معاہدے منسوخ کرتے ہوئے صہیونی ریاست کو ہر قسم کا اسلحہ فراہم کرنے پر پابندی لگائے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وسط جولائی سے اگست کے پہلے ہفتے تک اسرائیلی نے برطانیہ اور امریکا جیسے ملکوں سے حاصل کردہ تباہ کن اسلحہ کی مدد سے غزہ کی پٹی میں نہتے شہریوں کا وحشیانہ قتل عام کیا جس کے نتیجے میں بچوں اورخواتین سمیت 2000 فلسطینی شہید اور 10 ہزا زخمی ہوئے ہیں۔ ان تمام شہداء اور زخمیوں کا خون ہر اس ملک کے سر ہے جو اسرائیل کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔
