(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مصر کے سرکاری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ عمان حکومت اور اسرائیل کے درمیان بحر متوسط میں گیس کی تلاش اور نکاسی کے مشترکہ منصوبے پر مذاکرات ایک سال سے تعطل کا شکار ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی سپریم کورٹ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بحر متوسط گیس پروجیکٹ کے حوالے سے اردن کے ساتھ پائے جانے والے اختلافات ختم کرتے ہوئے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔رپورٹ کے مطابق اردن کی وزارت توانائی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ ایک سال سے اسرائیل کی طرف سے گیس پروجیکٹ کے حوالے سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
اردن کے سیکرٹری پٹرولیم غالب معابرہ کا کہنا ہے کہ اردن۔اسرائیل مشترکہ گیس پرجیکٹ پر بات چیت کا سلسلہ مزید کئی ماہ تک معطل رہ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے کچھ تکنیکی رکاوٹیں ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کی جانب سے منصوبے کے لیے مجوزہ بجٹ کا بھی اہتمام نہیں کیا جاسکا ہے۔ اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل تک دونوں فریق کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔
خیال رہے کہ اردن کو قدرتی گیس کے شعبے میں بحران کا سامنا ہے اور بحران کے حل کے لیے عمان حکومت نے مصر، الجزائر اور روس سے گیس کے حصول کی کوششیں کی تھیں تاہم اب اردن مصر اور دوسرے ملکوں پر گیس کے حصول کا انحصار کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردنی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ مل کر بحر متوسط میں گیس کے حصول کا ایک پلان تیار کیا تھا۔ یہ کام امریکا اور اسرائیل کی دو کمپنیوں کو دیا جانا تھا۔ اردن اور اسرائیل نے امریکی کمپنی ’’نوبل انرجی‘‘ اور اسرائیل کی ’’ڈیلیک دریلنگ‘‘ کے ساتھ ایک یاداشت پر دستخط بھی کیے تھے تاہم معاملات آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔
