(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے انتہا پسند رکن کنیسٹ اور سابق وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے مسجد اقصیٰ کے قریب باب العامود کے مقام پر دھاوا بولا اور سخت سیکیورٹی میں ایک پریس کانفرنس بھی کی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کے نشری ذرائع ابلاغ میں ایک فوٹیج نشر کی گئی ہے جس میں لائبرمین کو مسجد اقصیٰ کے باب العامود میں ایک نیوز کانفرنس کرتے، یہودی آباد کاروں سے گفتگوکرتے اور وہاں گھومتے دکھایا گیا ہے۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج اور پولیس نے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کررکھے ہیں۔اس موقع پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آوی گیڈور لائبرمین نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پرزور دیا کہ وہ فدائی حملے کرنے والے فلسطینیوں کے خاندانوں کو فلسطین سے نکال دیں اور فلسطینیوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کریں تاکہ یہودی آباد کاروں پرہونے والے حملوں کو روکا جاسکے۔
انہوں نے وزیراعظم نیتن یاھو کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاھو کی پالیسیوں نے بیت المقدس کو کئی سال پیچھے خوف کے دور میں دھکیل دیا ہے۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں یہودی آج ایک بار پھر بیت المقدس میں ایک ایسے دور میں داخل ہوچکے ہیں جب وہ اپنے گھرسے نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔
