رپورٹ کے مطابق یہ تازہ تحیق مرکز فلسطینی اسٹڈی سینٹر کے شعبہ اسرائیلیات کےزیراہتمام تیار کی گئی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت دن رات اسرائیل یہودی مملکت کا تشخص دلوانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومتوں اور دیگر ریاستی اداروں کو مسئلہ فسطین کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کی تمام تر توجہ یک طرفہ طورپر ارض فلسطین میں یہودی ریاست کو تسلیم کرانے پرمرکوز ہے۔ فلسطین میں جاری یہودی آباد کاری، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، ان کے مکانوں کی مسماری اور املاک و اراضی پرقبضے اسی سازش کا حصہ ہیں کیونکہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ ارض فلسطین میں فلسطینی قوم اپنا تشخص قائم رکھے بلکہ اس سرزمین پر یہودیوں کے ملک کا تشخص قائم ہو۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت اسرائیل میں تنازع فلسطین کے حوالے سے جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ صرف اور صرف اسرائیل اور اس کے یہودی تشخص کے ارد گرد ہو رہا ہے۔
دوسری جانب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سیاسی سطح پر اسرائیلی سازشوں بالخصوص اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے کی گھناؤنی سازشوں کی روک تھام کے حوالے سے کوئی ٹھوس حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فلسطین میں یہودی ریاست کے تشخص کے یک طرفہ اسرائیلی اقدامات کو عالمی ذرائع ابلاغ میں کافی جگہ مل رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں قانون سازی سے لے کر دائیں بازو کی انتہا پسند سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات تک اور ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے سے لے کر اسرائیلی فوج اور دیگر اداروں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی تک جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اسرائیل کو یہودی تشخص قرار دینے کا تسلسل ہے۔ ہاں اگرجگہ خالی ہے تو وہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ہے کیونکہ فلسطینی اتھارٹی صہیونی ریاست کے اس مخصوص فاشزم کو روکنے میں بری طرح ناکام ہی نہیں بلکہ انتہائی غافل بھی ہے۔ اسرائیل فلسطین کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ نسل پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودیوں کو فلسطینی علاقوں میں آباد کرکے فلسطینی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہے۔
