(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) نے عرب کمیونٹی کے نمائندہ تین ارکان پارلیمنٹ کو بیت المقدس میں فلسطینی شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی پاداش میں دو سے چار ماہ کے لیے پارلیمنٹ سے بے دخل کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ کی ضابطہ اخلاق کمیٹی نے دو عرب ارکان پارلیمان ڈاکٹر باسل غطاس اور حنین الزعبنی کو چار چار ماہ کے لیے جب کہ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر جمال زحالقہ کو دو ماہ کے لیے ایوان میں دخل ہونے پرپابندی عائد کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق صہیونی کنیسٹ کی جانب سے ان تینوں ارکان کو بیت المقدس کے فلسطینی شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی پاداش میں پارلیمنٹ سے بے دخل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے عرب ارکان پارلیمنٹ نے گذشتہ منگل کو بیت المقدس میں ان فلسطینی شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی جنہیں شہید کرنے کے بعد اسرائیلی فوج نے ان کے جسد خاکی کو بھی قبضے میں لے رکھا ہے۔
مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقوں کی کوریج کرنے والے نیوز ویب پورٹل کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ کی ضابطہ کمیٹی نے عرب ارکان پارلیمنٹ کے خلاف 450 شکایتں جمع کی ہیں۔ ان میں اہم ترین شکایت جس پران کے خلاف کارروائی کی گئی وہ فلسطینی شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات ہے۔ رپورٹ کے مطابق شکایت کندگان میں اسرائیلی وزیراعظم بجمن نیتن یاھو اور کنیسٹ کے چیئرمین یولی اڈلچائن بھی شامل ہیں۔
دریں اثناء اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب اتحاد کے دیگر ارکان نے تین ارکان کی پارلیمنٹ سے بے دخلی کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ عرب الائنس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہداء کے جسد خاکی روکنا صہیونی ریاست کی ظالمانہ پالیسی ہے۔ وہ اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ روکے گئے فلسطینی شہداء کے جسد خاکی فوری طورپر ان کے لواحقین کے حوالے کیے جائیں تاکہ ان کی تدفین کی جاسکے۔
