اسرائیل کے ٹیلی ویژن 7 کی رپورٹ کے مطابق ملک کے اقتصادی اور کاورباری حلقے عالمی سطح پر بائیکاٹ کی مہمات سے سخت پریشان ہیں۔ صہیونی ریاست کی سفارتی مساعی بھی بائیکاٹ مہمات کو ناکام بنانے میںکامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
عالمی مارکیٹوں میں اسرائیلی مصنوعات کی خریداری کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔ کئی ملکوں حتی کہ یورپ کے اندر بھی یہودی تجارتی اور کاروباری کمپنیوں کو مغربی کنارے اور فلسطین کے دوسرے شہروں میں یہودی آباد کاری کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ جس کے باعث تاجروں کو اپنی بات منوانے میں سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فرانس کی "فیولہ” تجارتی فرم اور کینیڈا کے گریٹ پروٹسٹنٹ چرچ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ بیت المقدس اور مغربی کنارے جیسے متنازعہ علاقوں میں تیار کی گئی مصنوعات نہیں خریدیں گے۔ پروٹسٹنٹ چرچ کے اعلان کے بعد کینیڈا کی مارکیٹوں میںبھی اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ پیش آئند برس بائیکاٹ مہمات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
