رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا معاشی، سفارتی، تعلیمی، تجارتی ، سیاسی اور طبی بائیکاٹ کرنے والے ادارے تل ابیب سے دشمنی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ اسرائیل ان اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی سمیت ہرممکن جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔اس مقصد کے لیے اسرائیل سائبر جنگ بھی شروع کرسکتا ہے اور جدید ترین آلات کے ذریعے بائیکاٹ کرنے والے اداروں، تنظیموں اور شخصیات کے آن لائن ڈیٹا تک رسائی حاصل کرکے اسے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو عالمی سطح پر بائیکاٹ کی ایک موثر مہم کا سامنا ہے۔ یہاں تک کہ اس مہم سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صہیونی حکومت کی جانب سے بائیکاٹ مہم کے جواب میں سائبر جنگ چھیڑنے کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ ایسے تمام اداروں ، کمپنیوں اور شخصیات کے خلاف سائبر حملے شروع کیے جائیں گے جو اسرائیل کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر برائے سماجی امور گیلاد اردان کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا وہ بیان جس میں انہوں نے اسرائیل سے فلسطین پر ناجائز قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے صہیونی ریاست کے بائیکاٹ کی تحریک کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ بان کی مون کا بیان بھی اسرائیل کو بدنام کرنےکی عالمی مہم کا جزو ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’’تل ابیب میں ’’سائبر ٹیک 2016 ء‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ہمارے خلاف نفرت پرمبنی مہم چلانے والوں کو اب سائبر جنگ کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سائبر جنگ کے لیے تل ابیب نے 100 ملین ڈالر کی رقم مقرر کی ہے۔
