اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹیلی ویژن 10 کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کی پلاننگ اینڈ ڈویپلمنٹ کمیٹی کی جانب سے اردن کو پانی کی اضافی مقدار فراہم کرنے کے لیے پائپ لائن بچھانے کی تجویز مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایسی کسی اسکیم میں تعاون نہیں کر سکتی ہے۔
خیال رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دریائے اردن سمیت پانی کے ذخائر کی تقسیم کا ایک معاہدہ بھی ہو چکا ہے جس میں فلسطینی اتھارٹی، اردن اور اسرائیل تینوں شامل ہیں۔ اسی معاہدے کے تحت بحیرہ طبریہ کے راستے پانی پائپ لائنیں بچھانے کا معاہدہ ہوا تھا جس میں اردن کو پانی کی اضافی مقدار فراہم کی جانی تھی۔
اسرائیلی پلاننگ کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جس راستے سے اسرائیل کو پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھانے کی تجویز دی گئی تھی وہاں کی آبادی بھی اپنی اراضی میں کھدائی کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ لہٰذا اگر اردن کو پانی کی اضافی مقدار کی ضرورت ہے وہ بحیرہ طبریہ کی پائپ لائنوں کے بجائے دریائے اردن کے جنوبی کنارے سے پانی کی سپلائی پرغور کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
