• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
اتوار 16 اگست 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

اسرائیل نے غرب اردن کی بڑی یہودی کالونی میں توسیع کی خفیہ منظوری دیدی

جمعرات 07-01-2016
in عالمی خبریں
0
Muslim cemetery
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیلی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیل کے وزیردفاع موشے یعلون نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی 40 دونم اراضی’غوش عتصیون‘ یہودی کالونی کی توسیع کے لیے کالونی کا حصہ قرار دینے کی منظوری دی ہے۔

رپورٹ میں بتایا ہے کہ صہیونی حکومت نے غرب اردن میں عیسائیوں کے تاریخی چرچ’’بیت البرکہ‘‘ کی چالیس ہزار مربع میٹر اراضی یہودی توسیع پسندی کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت البرکہ چرچ کو بھی یہودی کالونی میں ضم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سلسلے میں یہودی ارب پتی ارفین موسکوفیٹچ اور اس کی اہلیہ کی ملکیت میں ظاہر کی گئی ایک جعلی فرم کابھی حوالہ دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اسی اخبار نے پچھلے سال مئی میں یہودی ارب پتی کی ملکیتی ایک کمپنی کا حوالہ دیا تھا جس کےبارے میں کہا گیا تھا کہ اس کمپنی نے شاہراہ 60 پر الخلیل اور بیت المقدس میں حد فاصل کا درجہ رکھنے والی آٹھ عمارتوں کو یہودی آباد کاروں کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے ایک خفیہ معاہدے کا انکشاف کیا تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکام نے الخلیل کے قریب جس فلسطینی اراضی پرقبضہ کیا ہے اور اسے اب غوش عتصیون کالونی میں ضم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہےپر یہودیوں نے پچھلے صدی میں 1940 ء کے عشرے میں قبضہ کیا تھا، بعد ازاں اسے اسپتال کا درجہ دے دیا گیا تھا مگر کچھ عرصے بعد وہاں ایک چرچ بنایا گیا۔

اسرائیل کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون صحافی گیرو فینسکا نے کچھ عرصہ قبل سویڈن میں ایک خیالی کمپنی قائم کی تھی اور اس فرم کے ذریعے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا کے عیسائیوں نے سنہ 2010 ء میں ایک معاہدے کے ذریعے چرچ کی اراضی حاصل کرنے کی کوششش کی تھی۔

اس معاہدے کے بعد کمپنی تحلیل کردی گئی تھی اور اس کے حقوق ارب پتی یہودی ارفین موسکو فیٹچ کو دے دیے گئے تھے۔ مسٹر موسکوفٹیچ فلسطین میں یہودی آباد کاری میں معاونت کرنے کے حامی ہیں اور انہوں نے بیت البرکہ کی اراضی یہودی خرید کرنے کے بعد اس پر یہودی آباد کاری کرانے کا منصوبہ تیار کیا تھا جسے حال ہی میں اسرائیلی وزیردفاع نے حتمی طورپر منظور کرلیا ہے۔

اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون کی جانب سے منظوری حاصل کرنے کےبعد اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہرالخلیل میں ایک یہودی کالونی کےقیام کی غرض سے شہر میں واقع ایک پرانی عیسائی عبادت گاہ”بیت البرکہ” پرقبضہ کرلیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلسطین کی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ بیت البرکہ اور اس سے متصل 40 دونم جگہ انہوں نے "غوش عتصیون” کالونی کی توسیع کے لیے ایک امریکی کمپنی سےخرید کی تھی تاہم اس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکا ہے۔

تنظیم آزادی فلسطین کے شعبہ دفاع اراضی کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ البرکہ چرچ الخلیل شہر اور غوش عتصیون یہودی کالونی کے درمیان واقع ہے۔ اسرائیل کی یہودی توسیع پسندی میں سرگرم ایک تنظیم اس چرچ اور اس سے ملحقہ اراضی کو یہودی کالونی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ یہ تنظیم چرچ کی زمین پر ایک ہوٹل کے قیام کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ العروب پناہ گزین کیمپ کے قریب شاہراہ 60 پر واقع چرچ اور اس سے ملحقہ 40 دونم اراضی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک امریکی کمپنی نے سات سال قبل خرید کی تھی۔ اس خریداری کا مقصد بھی اراضی کو "غوش عتصیون” کالونی میں توسیع کے کام میں لانا تھا۔

رپورٹ میں اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون کی جانب سے حال ہی میں "بیت البرکہ” کو یہودی کنیسہ بنانے کی منظوری دیے جانے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ بیت البرکہ الخلیل کے شمال میں العروب کیمپ میں ایک اہم تاریخی مقام ہے۔ اس جگہ یہودی معبد کی تعمیر کا مقصد اس علاقے میں ایک نئی یہودی کالونی کےقیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج پہلے ہی ‘بیت البرکہ’ کی فلسطینی اراضی کے 40 ایکڑ کے رقبے پر مشتمل ایک یہودی کالونی کی منظوری دے چکی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ العرب کیمپ کے قریب شاہراہ 60 پر واقع پراپرٹی کو ایک امریکی کمپنی نے سات سال قبل خرید کیا تھا۔ اس میں ایک چرچ کی عمارت بھی شامل ہے، جبکہ قابض صہیونی حکومت نے اس کے آس پاس کی 40 دونم اراضی کو یہودی آباد کاری کے مقاصد کے لیے غصب کرلیا ہے۔

Tags: israelipalestineThirdIntifadaUnitedForPalestineاسرائیل نے غرب اردن کی بڑی یہودی کالونی میں توسیع کی خفیہ منظوری دیدی
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.