ڈان شپیرو نے تل ابیب میں انسٹی ٹیوٹ برائے تزویراتی مطالعات کے سالانہ اجلاس کے موقع پر کہا کہ ” اسرائیلیوں(یہودی انتہا پسندوں) کی گڑبڑ کی کارروائیوں پر کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی جاتی ہے اور بظاہر قانون کی حکمرانی کے لیے دو معیار نظر آتے ہیں۔ایک اسرائیلیوں کے لیے ہے اور دوسرا فلسطینیوں کے لیے ہے”۔
امریکی سفیر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں گذشتہ سال ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو نذرآتش کرنے کے الزام میں دو اسرائیلیوں پر فرد جرم عاید کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ان انتہا پسند یہودیوں نے ایک فلسطینی جوڑے اور ان کے کم سن بیٹے کو زندہ جلا دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ”یہ فرد جرم اسرائیل کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیوں پر قانونی چارہ جوئی کی عکاسی ہوتی ہے۔خواہ ان کارروائیوں کا ذریعہ کوئی بھی ہے لیکن فلسطینیوں پر کیے جانے والے بہت سے حملوں کی مؤثر انداز میں تحقیقات نہیں کی گئی ہے یا ان پر اسرائیلی حکام نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے”۔
