رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اوراسرائیل نمائندوں کےدرمیان یہ مذاکرات سیکیورٹی نوعیت کے تھے جو گذشتہ ماہ نو فروری کو ایک خفیہ مقام پر ہوئے۔ ان مذاکرات کا فلسطینی اتھارٹی کےسربراہ محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور وزیردفاع موشے یعلون کو بہ خوبی علم تھا۔
بات چیت میں مغربی کنارے کے بعض شہروں میں اسرائیلی فوجی دستوں کی تعداد بڑھانے اور بعض مقامات پرکم کرنے کی تجاویز پرغورکیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے تجویز پیش کی گئی غرب اردن کے سیکٹر A میں موجود اسرائیلی فوج کی تعداد بہ تدریج کم کی جائے اور اس علاقے میں اسرائیلی فوج سواہے ہنگامی حالت کے کسی قسم کا آپریشن نہ کرے۔ اسی طرح رام اللہ اور اریحا شہروں کا انتظامی اور سیکیورٹی کنٹرول بھی بہ تدریج فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کو دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ان مذاکرات میں فلسطینی شہری امور کے وزیر حسین الشیخ، جنرل انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ میجر جنرل ماجد فرج اور فلسطین ڈیفنس فورس کے چیف میجر جنرل زیاد ھب الریح نے شرکت کی۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بہ ظاہر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ ہرقسم کے مذاکرات کا سلسلہ معطل کررکھا ہے مگر اسرائیلی میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں فلسطینی اتھارٹی کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے۔ اس سے یہ صاف عیاں ہو رہاہے کہ فلسطینی اتھارٹی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔
