واشنگٹن (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی حکومت نے آئندہ 10 سال تک اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ھیذر ناورٹ نے منگل کو ایک پریس بیان میں کہا کہ ہم نئے مالی سال میں داخل ہو رہےہیں۔ اگلے دس سال کے لیے اسرائیلی کو 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تل ابیب کو فوجی امداد کی فراہمی کا معاہدہ سنہ 2016ء میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے پر اب عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکا تل ابیب کو سالانہ 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد دینے کا پابند ہے اور اگلے دس سال تک امریکا صیہونی ریاست کو یہ امداد نقد رقم اور دفاعی سازو سامان کی شکل میں مہیا کرے گا۔
ناورٹ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے لیے فوجی امدادی پیکج کو کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس کی طرف سے حمایت حاصل رہی ہے۔
اسرائیل کے لیے امداد موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل کی سلامتی کے لیے وعدوں کی عکاسی کرتی ہے۔
ادھر اسرائیل کے سرکاری ریڈیو نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا کی طرف سے تل ابیب کی فوجی امداد کسی دوسرے ملک کی طرف سےملنے والی سب سے بڑی رقم ہے۔
ریڈیو کے مطابق اسرائیلی حکومت امریکا کی طرف سے ملنے والی امداد میں سے پانچ ارب ڈالر بیلسٹک میزائل شکن پروگرام کو اپ گریڈ کرنے اور امریکا ہی سے اسلحہ اور جنگی سازو سامان کی خریداری پر صرف کرے گا۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی سنہ 2016ء میں صیہونی ریاست کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت اسرائیل کو سالانہ ساڑھے تین ارب ڈالر سے زائد کی فوجی امداد فراہم کرنا تھی۔ یہ امداد اسرائیل کو ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے پر رضا مند کرنے کے لیے دی گئی۔
