(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کو دھمکی دی کہ اگر اس نے غزہ میں موجود قیدیوں کو رہا نہ کیا تو اس کے تمام ارکان کو قتل کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ حماس کے رہنماؤں کو فوری طور پر غزہ چھوڑ دینا چاہیے۔
بدھ کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سرکاری پلیٹ فارم پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا، ’’حماس کو چاہیے کہ وہ غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو فوراً رہا کرے اور جو مر چکے ہیں ان کی لاشیں واپس کرے، ورنہ اس کا خاتمہ یقینی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو وہ تمام وسائل فراہم کر دیے ہیں جو حماس کے خلاف کارروائی مکمل کرنے کے لیے درکار ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حماس نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی انتظامیہ کے ایک نمائندے کے ساتھ مذاکرات کیے۔ تنظیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ یہ براہ راست مذاکرات امریکی صدر کے خصوصی ایلچی ایڈم بُوہلر کی موجودگی میں ہوئے۔ مذاکرات کا آغاز ٹرمپ کے اس مطالبے کے بعد ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حماس کو خیرسگالی کے طور پر امریکی شہریت رکھنے والے قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے۔
قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی ہٹ دھرمی
ٹرمپ کے مطالبے اور مذاکرات کے آغاز کے بعد، حماس نے امریکی شہریت رکھنے والے اسرائیلی قیدی ساجوی ڈیکل چین کو رہا کر دیا، جو ان تین قیدیوں میں شامل تھا جنہیں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے چھٹے مرحلے میں آزاد کیا گیا تھا۔ یہ تبادلہ غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تحت ہوا تھا۔
حماس کے ایک رہنما نے بتایا کہ تنظیم نے مذاکرات کے دوران ایک جامع معاہدہ کی تجویز دی تھی جس کے نتیجے میں جنگ کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ جن قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے، وہ درحقیقت اسرائیلی فوجی تھے جنہیں فوجی ٹھکانوں سے گرفتار کیا گیا تھا، نہ کہ عام شہری۔ ان فوجیوں کی تعداد چار سے چھ کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔
امریکہ کی کوششیں اور اسرائیل کی رکاوٹیں
حماس کے عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی یہ کوشش پہلی بار نہیں تھی۔ اس سے قبل سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت نے بھی مذاکرات کی کوشش کی تھی، مگر اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی موجودگی کے باعث کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ بائیڈن انتظامیہ نے اس وقت جزوی معاہدے کی کوشش کی تھی، جس کے تحت صرف امریکی شہریت رکھنے والے قیدیوں کو رہا کرانے پر توجہ دی گئی تھی۔
جنگ بندی معاہدہ تعطل کا شکار، غزہ میں قحط کا خدشہ
غزہ میں 42 دن جاری رہنے والے جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ گزشتہ ہفتے مکمل ہوا، مگر اس کے بعد دوسرے مرحلے پر عمل درآمد نہ ہو سکا کیونکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں اگرچہ جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوئی، مگر اسرائیل نے غزہ کے لیے تمام انسانی امداد بند کر دی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، تقریباً 19 لاکھ فلسطینی—یعنی غزہ کی 90 فیصد آبادی—بےگھر ہو چکی ہے، اور قحط کے سائے منڈلا رہے ہیں۔