الاقصیٰ ٹی وی کی جانب سے حماس کے ایک مرکزی ذمہ داری کا بیان نشر کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ نتین یاھو اپنی قوم کو گمراہ کرنے کے بجائے اپنے لاپتا فوجیوں کی درست انداز میں گنتی کریں اور دیکھیں کہ ان کے کتنے فوجی پچھلے سال جنگ میں لاپتا ہوگئے تھے۔
خیال رہے کہ حالیہ چند ایام میں اسرائیلی میڈیا اور حکومتی حلقوں میں غزہ کی پٹی میں پچھلے سال لاپتا ہونے والے فوجیوں کے بارے میں کئی قسم کی قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں۔
پچھلے سال غزہ جنگ کے دوران حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے شائول ارون نامی ایک فوجی کو زندہ حراست میں لے لیا تھا۔ ایک دوسرے فوجی ھدار گولڈن کا نام بھی لاپتا فوجیوں میں شامل ہے تاہم اس کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ وہ ہلاک ہوچکا ہے اور اس کی میت فلسطینی مزاحمت کاروں کے پاس ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
