مصر کی ایک عدالت نے منگل کے روز ایک فیصلہ جاری کیا ہے جس میں حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کی تمام سرگرمیوں اور دفاتر پر پابندی لگا دی ہے۔
محمود زھار نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا ہے کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد مصر فلسطینی مفاہمت میں اپنا کردار کھو چکا ہے۔ زھار کے مطابق ان کی تنظیم کسی مناسب موقع پر اس مقدمے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کسی طور سے بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا کیونکہ اس موقع پر حماس کا کوئی نمائندہ یا وکیل موجود نہیں تھا اور الزامات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت بھی پیش نہیں کئے گئے تھے۔
زھار کے مطابق اس فیصلے سے اسرائیل کے ساتھ پچھلے چھ سالوں میں چار جنگوں کرنے والی تحریک کو مورد الزام ٹھہرا دیا گیا ہے اور اس فیصلے سے صیہونی مقاصد کو تقویت ملے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حماس کے مصر میں کوئی دفاتر یا فنڈز نہیں ہیں جبکہ وہاں پر اسرائیل کی ایمبیسی موجود ہے۔ اس کے علاوہ مصری حکام غزہ کے شہریوں کو رفح بارڈر کے ذریعے سے کراسنگ کی اجازت نہیں دیتے ہیں مگر طابا کراسنگ سے اسرائیلی بغیر کسی ویزے کے مصر میں آتے جاتے رہتے ہیں۔
