اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے ہفتے علی الصباح جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاپتا اسرائیلی فوجی کے معاملے میں تنظیم کو کچھ معلوم نہیں۔
ہمیں فوجی کی موجودگی اور اس کے لاپتا ہونے کے حالات کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کمین گاہ میں موجود مجاہدین سے ہمارا رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ غالب امکان ہے کہ کارروائی میں شریک مجاہدین کا پورا گروپ صہیونی بمباری میں شہید ہو چکا ہے، اسرائیلی فوجی بھی اسی بمباری کا نشانہ بنا۔ اس بات کا قومی امکان ہے کہ شہید ہونے والے قسامی مجاہدین نے ہی جھڑپ میں اسرائیلی فوجی اغوا کیا ہو۔”
قبل ازیں اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان کے فوجی کو ‘دہشت گردوں’ نے اس وقت اغوا کیا جب وہ اپنے دیگر کامریڈوں کے ساتھ جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح کے علاقے میں زیر زمین سرنگیں تباہ کرنے کے لیے کارروائی کر رہے تھے۔ بعد میں اس فوجی کی شناخت ہدار گولڈن کے نام سے کی گئی۔
جمعہ کی صبح غزہ کی پٹی میں جس انسانی فائر بندی کا اعلان کیا گیا تھا وہ اسرائیلی ہٹ دھرمی کے باعث چار گھنٹے سے بھی زیادہ مدت قائم نہیں رہ سکی۔ غزہ میں فلسطینیوں کے خون کی ہولی جاری ہے اور 8 جولائی سے شروع ہونے والی جنگ میں ابتک 1650 بے گناہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
