مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان اور جماعت کے پارلیمانی بلاک کے سربراہ ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مصر کی ثالثی کے تحت بالواسطہ طورپر جنگ بندی کے بارے میں مذاکرات کا اگلا دور عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے بعد ہو گا۔ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں غزہ کی پٹی میں ہوائی اڈے، بندرگاہ اور قیدیوں کی رہائی پر بات ہو گی تاہم قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ الگ سے ہو گا۔
ڈاکٹر بردویل کا کہنا تھا کہ فلسطینی تنطیموں اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور قاہرہ میں ہوا تھا جس میں فریقین نے فوری طور پر دو ماہ کے لیے فائر بندی پر اتفاق کیا تھا جبکہ بندرگاہ، ہوائی اڈے اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے بات چیت کو مذاکرات کے اگلے ادوار پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے کسی بھی معاہدے میں صہیونی جیلوں میں ڈالے گئے
فلسطینی مجلس قانون ساز کے ارکان کی رہائی کا مطالبہ کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں حماس رہنما نے کہا کہ فلسطین کی سیاسی جماعتوں بالخصوص الفتح کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اور الفتح کی قیادت طے شدہ ایجنڈے اور نکات پر بات چیت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ عید الاضحیٰ کے بعد دونوں جماعتوں میں مفاہمتی بات چیت کا ایک اور دور بھی ہو گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
