(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) حماس کے رہنما محمود مرداوی نے کہا کہ حماس کسی بھی اقدام سے پہلے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ مصر اور قطر کے ذریعے کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں کرے گی، جب تک کہ ان فلسطینی قیدیوں کو رہا نہ کیا جائے جن کی رہائی پر گزشتہ روز (ہفتہ) اتفاق ہوا تھا۔
مرداوی نے اپنے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ”جب تک ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا، جن کی رہائی پر اتفاق ہوا تھا، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے چھ قیدیوں (جو ہفتے کو رہا کیے گئے، جبکہ چار لاشیں بھی شامل ہیں) کے بدلے، تب تک دشمن کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت نہیں ہوگی۔”
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی، اسٹیو وِٹکوف کے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد ہوگا۔
اتوار کی صبح، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت فلسطینی قیدیوں کے ساتویں گروپ کی رہائی کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تاخیر اس وقت تک جاری رہے گی جب تک "اگلے مغویوں کی آزادی بغیر کسی اشتعال انگیز تقریب کے یقینی نہ بنا لی جائے۔”
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ "حماس کئی طریقوں سے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جن میں اشتعال انگیز تقریبات اور مغویوں کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔” نیتن یاہو نے ایک علیحدہ بیان میں بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ تاخیر اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ اگلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی "بغیر کسی اشتعال انگیز تقریب کے” نہ ہو جائے۔
