اسرائیلی فوج کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر حماس نے روس سے مداخلت کی درخواست کر دی۔ غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق حماس کے لیڈر خالد مشعل نے روس کے نائب وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مداخلت کی درخواست کی۔ حماس کے مطابق روسی نائب وزیر خارجہ نے اسرائیلی رویے کے خلاف اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خبرایجنسی کے مطابق روس نے شام کے بعد عراق میں بھی داعش کے خلاف کارروائی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ادھر فلسطینی اعلی مذاکرات کار مصائب عریقات نے سلامتی کونسل پر فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے لیے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ماضی کی طرز پر بات چیت کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ صائب عریقات کا کہنا تھا کہ ماضی کے انداز میں اسرائیل کے ساتھ دوبارہ بات چیت اب بے سود ہے۔ میرے خیال میں اب مذاکرات کی طرف واپسی ویسے ہی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ماضی کے انداز میں تو بالکل ممکن ہی نہیں۔ صائب عریقات کا کہنا تھا کہ اب ہم اسرائیل کے ساتھ بات چیت اپنی شرائط پر کریں گے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کوئی ٹائم فریم دینے کے ساتھ ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرتے ہوئے اسرائیل کو اس کا پابند بنائے۔
