مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ ہمارے پاس دشمن کا کوئی قیدی ہوتو ہم اس کی صحت کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ اسے اچھی سےاچھی خوراک فراہم کرتے ہیں۔ گیلاد شالیت کی مثال سب کے سامنے ہے۔ اسے فلسطینی مجاھدین نے کئی سال تک جنگی قیدی بنائے رکھا لیکن اس کے ساتھ ایک بار بھی بدسلوکی نہیں کی گئی۔ جبکہ دوسری طرف اسرائیلی جیلوں میں ہمارے قیدیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتےہیں۔
انہوں نے کہا کہ تین ماہ تک اسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد گذشتہ روز شہید ہونے والے فلسطینی جعفر عوض کا خون اسرائیلیوں کی گردنوں پر ہے کیونکہ وہ اسرائیل کی جیلوں میں بیماریوں کا شکار ہوا۔ دوران حراست اسے کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی جب اس کی حالت بگڑ گئی تو اسے جیل سے نکال دیا گیا۔
حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک سازش کے تحت غزہ کی پٹی کو فلسطین کے دوسرے علاقوں سے الگ کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہم فلسطین کی ایک انچ زمین کو بھی اس سے الگ نہیں ہونے دیں گے۔ غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارا اور بیت المقدس سب ایک ہی وطن کے حصے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
