اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل فلسطین میں اسرائیلی فوج کی جارحیت اور تین یہودی آباد کاروں کی تلاش کی آڑ میں جاری ریاستی دہشت گردی کے بارے میں عالمی رہ نماؤں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسی سلسلے میں انہوں نے کل جمعرات کو امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو ٹیلیفون کیا۔ خالد مشعل نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی ریاستی دہشت گردی پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اسرائیلی جیلوں میں ڈالے گئے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ مظالم کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق خالد مشعل نے دوحہ کی جانب سے فلسطینیوں کی غیر مشروط حمایت اور ہر ممکن مدد کرنے پر امیر قطر کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔
بعد ازاں خالد مشعل نے خلیج کارپوریشن کونسل "جی سی سی” کے سیکرٹری جنرل عبدالطیف الزیانی، اسلامی تعاون تنظیم "او آئی سی” کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ایاد مدنی سے بھی ٹیلیفون پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں فلسطین کی موجودہ صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا۔
دونوں رہ نماؤں نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بلا جواز گرفتاریوں، غزہ کی پٹی کے معاشی محاصرے اور فلسطین میں جاری صہیونی ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور فلسطینیوں کی مشکل کی گھڑی میں مدد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت اور مدد پورے عالم اسلام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ فلسطینیوں کو کسی صورت میں اسرائیلیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
