مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ڈاکٹر محمود الزھار نےغزہ کی پٹی میں سنہ 2008 ء کی مسلط کردہ جنگ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس قومی حکومت کو اپنی کمزوریاں دور کرنے کے لیے متعدد بار موقع دے چکی ہے۔ ہم ایک موقع اور بھی دینے کو تیار ہیں مگر اس کے بعد ہم اس کے نتائج دیکھنا چاہیں گے۔ اگر قومی حکومت غزہ کے عوام کو ریلیف فراہم نہ کرسکی تو ہم متبادل آپشنز پر بھی غور کرسکتے ہیں۔
اسرائیلی دشمن کے نام اپنے پیغام میں ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی قوم اور مزاحمت باہم متحد ہیں۔ اسرائیل فلسطینی قوم کی آزادی کی تحریک کو کمزور نہیں کرسکتا ہے۔ مسلمان اور عرب ممالک سے مخاطب ہوتے ہوئے ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ حماس کسی بھی عرب اور مسلمان ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں۔ ہماری مسلح جدو جہد صرف صہیونی دشمن کے خلاف ہے۔
حماس رہ نما نے تمام فلسطینی دھڑوں پر اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور سرزمین وطن کے چپے چپے کی آزادی کے لیے غیر مشروط جدو جہد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اپنے وطن کی آزادی اور اس کا دفاع صرف متحد ہو کر ہی کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 2008.09 ء کی جنگ کے بعد اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ فلسطینیوں کے پاس اسلحہ اور ہر قسم کا دفاعی سامان ختم ہوگیا ہے اور وہ مکمل طور پر بے دست و پا ہیں لیکن گذشتہ برس کی جنگ میں صہیونیوں کو یہ باور کرا دیا کہ فلسطینی کم وسیلہ ہوکر بھی جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کے لیے وہی سب سے بھاری اور مضبوط ہتھیار ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
