مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کارکنوں یزید خضر، علاءالاعرج، طارق رضوان اور محمد سلیم نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کی جانب سے ان پر مسلح ملیشیا تشکیل دینے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ وہ چاروں پچھلے پانچ سال سے مسلسل اس جھوٹے الزام کے تحت عدالت کے چکر لگاتے رہے اور مقدمہ بھگتے رہے ہیں تاہم گذشتہ روز عدالت نے فلسطینی پولیس کے دعوے کو بے بنیاد قرار دے کر ہماری بریت کا فیصلہ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کی جانب سے ہمارے خلاف قائم کیے گئے مقدمہ میں عدالت کو کسی قسم کا ثبوت مہیا نہیں کیا گیا۔ پانچ سال میں عدالت نے مقدمہ کی 45 بار سماعت کی جس کے نتیجے میں ہمارے روز مرہ کے کام بری طرح متاثر ہوتے رہے۔ ہم میں سے کوئی بھی رکن اپنی تعلیم بھی جاری نہ رکھ سکا اور ہمارے پانچ قیمتی سال ایک جعلی مقدمہ میں برباد کردیے گئے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
