رپورٹ کے مطابق الزھار نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی ایک قومی مسئلہ ہے اور اسے قومی حیثیت ہی کے تحت ڈیل کیا جائے گا۔ حماس کے پاس اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے لیے بھرپور وسائل موجود ہیں۔ مجاھدین دشمن کے فوجیوں کو جنگی قیدی بنا کر ان کے بدلے میں فلسطینیوں کی رہائی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الزھار کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے قیدیوں کے تبادلے کی کسی بھی ڈیل کی صورت میں کسی ایک جماعت سے تعلق رکھنے والے اسیران پر توجہ مرکوز نہیں کی جائے گی بلکہ تمام جماعتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے اسیران کو شامل کیا جائے گا۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے پاس دشمن کی قید سے اپنے ہم وطن شہریوں کی رہائی کے لیے پوری قوت موجود ہے اور اسے بروقت استعمال کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ نومبر 2011 ء میں القسام بریگیڈ نے اسرائیل کے ایک فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں 1050 فلسطینی مردو خواتین کو اسرائیلی جیلوں سے آزاد کرایا تھا۔
