مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس رہ نما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی کے سرکاری ملازمین کے حقوق سلب کرنے کے ذمہ دار فلسطینی اتھارٹی کےسربراہ محمود عباس ہیں۔انہوں نے غزہ کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائی کے معاملے میں مسلسل پس و پیش سے کام لیا جس کے نتیجے میں غزہ کے ہزاروں خاندانوں کوبدترین مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ابو مرزوق کاکہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں سنہ 2006 ء کے انتخابات میں حماس کی انتخابی فتح کے بعد غزہ کے دو ملین لوگوں پر کئی اقسام کی جنگیں مسلط کی گئیں۔ کچھ جنگیں اسرائیلی دشمن کی جانب سے مسلط کی گئی اور کچھ جنگیں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مسلط کی گئی تھیں۔ اسرائیل نے جنگیں مسلط کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی کا چاروں اطراف سے محاصرہ بھی کیا۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ کے سرکاری ملازمین کے واجبات روک کر ایک غیراخلاقی جنگ کا ارتکاب کیا گیا۔
حماس رہ نما نے استفسار کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کی وزارت برائے لیبر کس کام کی وزارت ہے اور اس عہدے پر فائز وزیرکس مقصد کے لیے ہے۔ کیا وہ صرف ایک مخصوص گروپ کے گھر بیٹھے تنخواہیں دینے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور دوسری جانب اپنی ذمہ داریاں انجام دینے والے سرکاری ملازمین کو ان کی اجرت سے محروم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ دراصل فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اس ساری صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ پچھلے ایک سال سے تعطل کا شکارہے۔ اپریل 2014 ء میں فلسطین میں قومی حکومت کی تشکیل سے قبل غزہ کی پٹی میں حماس کے زیرقیادت حکومت میں بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کو فلسطینی اتھارٹی نے ماننے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے وہ حماس کے دور میں بھرتی ہونے والے ملازمین کو تنخواہین جاری نہیں کرسکتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
