رپورٹ کے مطابق حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حماس بیت المقدس میں یہودیوں کی بس میں دھماکے کی کارروائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی کا فطری رد عمل ہیں۔ جب تک فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھے گا اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں یہودیوں کی بس میں دھماکہ نہتے فلسطینیوں کے قتل عام، بیت المقدس میں یہودی آباد کاری اور مسجد اقصیٰ کی مسلسل بے حرمتی جیسے سنگین جرائم کا فطری رد عمل ہے۔
ادھر حماس کے ایک دوسرے رہنما حسام بدران کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کارروائی تمام مزاحمتی قوتوں کے لیے خوش خبری ہے۔ انہوں نے صہیونی دشمن کے نام پانے پیغام میں کہا کہ دشمن کو بیت المقدس میں ہونے والے حملے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ فلسطینی مجاھدین دشمن کو کسی بھی وقت کہیں بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ سوموار کی شام بیت المقدس میں اسرائیل کی ایک بس میں ہونے والے دھماکے میں دو ہلاک اور کم سے کم 21 صہیونی زخمی ہوگئے تھے۔
