(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ ) مقبوضہ فلسطین میں صیہونی ریاست کے مظالم کےخلاف مسلح جدوجہد کرنے والی مزاحمتی تحریک ‘حماس’ کے رہ نما اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ جماعت کے اعلیٰ سطح وفد کے حالیہ دورہ ایران سے دوطرفہ تعلقات پرمثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
غزہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اسامہ حمدان نے کہا کہ حماس کی قیادت نے ایک ایسے وقت میں ایران کا دورہ کیا ہے جب قضیہ فلسطین کو ‘صدی کی ڈیل’ جیسی خطرناک سازشوں اور امریکی ۔ صہیونی گٹھ جوڑ کے بدترین حربوں کا سامنا ہے، اس صورتحال میں حماس کی قیادت کا دورہ تہران تعلقات کی بہتری کی طرف اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران قضیہ فلسطین کے حل کے حوالے سے مثبت کردار ادا کررہا ہے۔ حماس کے دورہ ایران سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے ساتھ قضیہ فلسطین کی علاقائی اور عالمی حمایت میں اضافہ ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں حمدان نے کہا کہ حماس مسلم امہ کو غاصب صہیونی ریاست کے خلاف متحد کرنے کے لیے کوشاں ہے اور ایران کے دورے کا مقصد بھی فلسطینی قوم کی حمایت اور صہیونی ریاست کے جرائم کے خلاف عالم اسلام کی حمایت کے حصول کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حماس کے وفد نے نہ صرف تہران کا دورہ کی ابلکہ ماسکو کے دورے کے ساتھ دیگر مسلمان اور عرب ممالک کے دورے کیےہیں۔
