مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے نئے امن مندوب گذشتہ روز مغربی کنارے کے شہر رام اللہ پہنچے تھے جہاں انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کےسربراہ محمود عباس سے بھی ملاقات کی۔ بعد ازاں وہ شمالی غزہ کی بیت حانون گذرگاہ سے غزہ داخل ہوئے اور چند گھنٹے انہوں نے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بھی گذارے۔
دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے اقوام متحدہ کے نئے امن مندوب برائے مشرق وسطیٰ نیکولائے ملاڈینوف کے دورہ غزہ کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے اس دورے سے غزہ کی پٹی میں جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں مدد ملے گی۔
حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اقوام متحدہ کے امن مندوب کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ غزہ کی پٹی کے دورے کے دوران صہیونی ریاست کے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا قریب سے جائزہ لیں۔ غزہ کی ناکہ بندی کو خود دیکھیں اور اسے ختم کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔
حماس نے اقوام متحدہ کے امن مندوب سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ اسرائیل کے جنگی جرائم کی مذمت کریں اور غزہ کی تمام بیرونی راہداریاں فوری طورپر کھولنے کے اقدامات کریں۔ تاکہ تعمیراتی سامان غزہ منتقل کیا جاسکے۔
خیال رہے کہ نیکولائے مالڈینوف نے ایک ماہ قبل ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے سابق مندوب رابرٹ سیری کی جگہ مشرق وسطیٰ کے امن مندوب کا منصب سنھبالا تھا۔ اقوام متحدہ کا خصوصی ایلچی کا منصب سنھبالنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ غزہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
