• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home حماس

اسرائیل کی قیدیوں کی رہائی کے بدلے رمضان جنگ بندی کی پیشکش، حماس کا انکار

صیہونی قیدیوں کو صرف تبادلہ معاہدے کے ذریعے ہی رہا کیا جائے گا، جو فائر بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں طے پائے گا

اتوار 02-03-2025
in حماس, خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ, فلسطین
0
اسرائیل کی قیدیوں کی رہائی کے بدلے رمضان جنگ بندی کی پیشکش، حماس کا انکار
0
SHARES
9
VIEWS

(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست کے جنگی مجرم وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں اعلان کیا کہ  صیہونی ریاست نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز کو قبول کر لیا ہے، جس کے تحت رمضان کے دوران غزہ میں عارضی جنگ بندی کی جائے گی، اور اس کے بدلے پہلے ہی دن آدھے قیدیوں (زندہ اور جاں بحق) کو رہا کیا جائے گا”۔ تاہم، بیان میں کہا گیا کہ "حماس اب بھی اس تجویز کو مسترد کر رہی ہے”۔

نتنیاہو کا بیان اور صیہونی شرائط

بیان کے مطابق، "وزیر اعظم نیتن یاہو کی سربراہی میں ایک سیکیورٹی میٹنگ ہوئی، جس میں وزیر دفاع، اعلیٰ دفاعی حکام اور مذاکراتی ٹیم نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت رمضان اور عیدِ فسح کے دوران فائر بندی کی جائے گی”۔

مزید کہا گیا کہ "معاہدے کے پہلے دن آدھے قیدی (زندہ اور جاں بحق) رہا کیے جائیں گے، اور اگر مستقل جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا تو باقی قیدیوں کو بھی چھوڑ دیا جائے گا”۔

حماس کی مؤقف: معاہدے کی دوسری مرحلے کی پاسداری ضروری

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے صیہونی ریاست کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پر صیہونی دہشتگردی کو روکنے کے لئے قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی سے ایک معاہدہ طے پاچکی ہے وہ پہلے سے طے شدہ معاہدے کی پاسداری کرے گی۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے فلسطینی ویب سائٹ الٹرا فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا:” غزہ میں مزاحمت کے پاس موجود صیہونی قیدیوں کو صرف تبادلہ معاہدے کے ذریعے ہی رہا کیا جائے گا، جو فائر بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں طے پائے گا”۔

انہوں نے مزید وضاحت کی: "اس معاہدے میں تین مراحل طے تھے، اور جنگ بندی کے آغاز کے سولہویں دن دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع ہونا تھے۔ ہم اسی اصول کے پابند ہیں”۔

صیہونی ریاست کی چالاکی اور مذاکرات میں تاخیر

حماس کے ترجمان نے مزید کہا کہ "جو صیہونی قیدیوں کو رہا کروانا چاہتا ہے، اسے غیر قانونی صیہونی ریاست کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں شامل ہو اور اس کے تقاضے پورے کرے۔ لیکن صیہونی حکومت پہلے مرحلے کو طول دے کر حالات کو صفر پر لے جانا چاہتی ہے اور اپنے قیدیوں کو رہا کروانے کے بعد دوبارہ جنگ میں جانے کا ارادہ رکھتی ہے”۔

نتنیاہو کی تاخیری حربے اور پہلی مرحلے کا پس منظر

19 جنوری کو پہلے مرحلے کے تحت فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا عمل شروع ہوا، جسے 42 دن کے تین مراحل میں مکمل ہونا تھا۔ ہر مرحلہ مکمل ہونے سے پہلے اگلے مرحلے پر بات چیت ضروری تھی۔

3 فروری کو دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع ہونے تھے، لیکن نتنیاہو کی ہٹ دھرمی اور تاخیر کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہے۔ پہلے مرحلے میں 33 صیہونی قیدیوں (جن میں 8 لاشیں بھی شامل تھیں) کے بدلے 1755 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.