حماس کے مرکزہ رہ نما اور جماعت کے پارلیمانی بلاک "اصلاح وتبدیلی” کے رکن فتحی القرعاوی کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس کے مشیر خاص اور صدر کے پرنسپل سیکرٹری حسین الاعرج نےاسرائیل سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ فریق ثانی مذاکرات میں شریک نہ بھی ہو تو وہ نو ماہ تک بات چیت کا عمل ترک نہیں کریں گے۔ فلسطینی اتھارٹی کی یہ سوچ نہایت شرمناک ہے۔ رام اللہ اتھارٹی کے مذاکرات کار دشمن کے لیے بات چیت کے لیے بچھے جاتے ہیں جبکہ صہیونیوں کو اس کی مطلق پرواہ نہیں ہے۔
رام اللہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے القرعاوی کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کے ساتھ جاری مذاکرات میں دو قسم کے امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ یا تو کوئی خفیہ سمجھوتہ ہونے والا ہے جس میں فلسطینیوں کے حقوق پر کوئی نئی سودے بازی ہوگی یا فلسطینی قوم کا مستقبل بالکل تاریک کرنے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔
حماس کے ایک دوسرے رہ نما نزیہ ابو عون نے بھی فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان جاری نام نہاد امن مذاکرات کی مخالفت کی ہے۔ حماس رہ نما کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی امریکا اور اسرائیل کی باجگزار ہے جو امریکیوں اور صہیونیوں کے سامنے "جرات انکار” نہیں رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی امریکا، مغرب اور اسرائیل کے وضع کردہ نقوش پر چل رہی ہے۔ مذاکرات سے صرف صہیونی ریاست کو فائدہ پہنچے گا، فلسطینیوں کا اس میں کوئی مفاد نہیں ہے۔
